Fatwa

Dealing with and working for a bank

Fatwa #2408 Category: Business & Trade Country: South Africa Date: 7th August 2026
Fatwa #2408 Date: 7th August 2026
Category: Business & Trade
Country: South Africa

Question

السلام علیکم و رحمة الله و بركاته

Hope the ulama are well

I have 2 questions

1. When one has a legitimate halaal business and then takes orders from non Muslims and from the bank therefore possibly getting interest money as payment what is the status of that money

2. Does working in the bank render ones money un lawful or haraam

 

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

  1. It is permissible. We are not tasked with ascertaining the source of non-Muslim funds.[1]
  2. If the job profile is such that one is not directly doing something Haram, then it is permissible.

And Allah Ta’āla Knows Best

Mufti Bilal Pandor

Concurred by
Mufti Muhammad Patel

Darul Iftaa Mahmudiyyah
Lusaka, Zambia

www.daruliftaazambia.com

 [1]امداد الأحكام ج4 ص386-390

امام اعظم کے نزدیک اہل ذمہ کے بھی معاملات خلاف شرع پر حکم فساد نہ لگا -جائے گا بشرطیکہ وہ معاملات خود ان کے دین کے موافق ہوں کیونکہ اہل ذمہ نے معاملات میں احکام اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے خلاف میں نہیں کیا۔ ہاں اگر کسی معاملہ کی بابت معاہدہ ہی میں ان سے شرط کر لی جائے اس کا التزام ان کی طرف سے ہو گا۔ باقی معاملات شرعیہ جو ان کے معتقدات کے موافق نہیں اور نہ ان سے ان کے بارے میں کوئی شرط کی گئی ہے ۔ ان میں اہل ذمہ کی طرف سے التام نہیں پایا گیا لہذا ایسے معاملات جب وہ اپنے مذہب کے موافق کریں گے تو ان کو صحیح مانا جائے گا اور حکم فساد نہ دیا جائے گا۔ اس تفصیل سے شبہات مذکورہ سوال کا جواب ظاہر ہو گیا ۔ اشکال کا منشا یہ تھے یہ تھا کہ جب کفار مخاطب بالعقوبات و معاملات ہیں تو اگر وہ کوئی معاملہ خلاف شرع کر کے مرد پیسہ حاصل کریں اس کو حلال نہ کہنا چاہیے بلکہ حرام کہنا چاہیے ۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ کفار مخاطب بالفروع في للعقوبات والمعاملات اگر چہ ہیں لیکن حکم بالحرمة و الفساد کے لئے خطاب عام کافی نہیں بلکہ الزام بھی شرط ہے ۔ اہل حرب نے تو احکام اسلام کا التزام بالکل نہیں کیا ۔ نہ اپنے معتقد کے موافق ہیں اور نہ مخالف میں لہذا وہ تو جس طرح بھی روپیہ کمائیں خواہ رہاء سے خواہ غصب سے خواہ بیوع باطلہ و فاسدہ سے خواہ اپنے مذہب کے موافق خواہ مخالف طریق سے بہر صورت وہ روپیہ وغیرہ ان کی ملک میں داخل ہو جائے گا اور مسلمان کو تنخواہ میں لینا اس کا جائزہ ہے اور اہل ذمہ نے احکام اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے موافقات میں کیا ہے. مخالفات میں نہیں کیا۔ سوا ان امور کے جن کی شرط ان سے کر لی جائے، پس جو عقد اہل ذمہ اپنے دین کے موافق کمریں دشر الا معاہدہ کے بھی خلاف نہ ہو اس میں حکم صحت دیا جائے گا گردہ شریعت کے خلاف ہو البتہ جو عقد ان کے دین کے بھی خلاف ہو یا شرائط معاہدہ کے خلاف ہو اس میں حکم فساد دیا جائے گا۔ ولعل الحق لا يتجاز عن ذالك ولعل الله يحدث بعد ذالك امراً .